دوامريکی شہر يوں ،ايک پاکستانی نژادپرامريکی کرنسی کو ايران منتقل کرنے کا الزام | USAO-DC

 زيدی   ،35 ، ايک امريکی  شہری جوقم،  ايران  ميں رہائش پذير  ہے،  پر الزام  عائد کيا گیا  کہ وہ  امريکا ميں اٹارنی جنرل  کو  قبل از وقت مطلع  کئے   بغيرحکومت ايران کے ايجنٹ   کے طور پر کام کر رہا ہے ۔  زيدی، عاصم نقوی ،35،ايک امريکی  شہری جو ہيوسٹن ، ٹيکساس ، ميں مقیم ہے،اور علی چا ولہ،36،ایک پاکستانی نژاد جو قم، ايران  ميں مقیم ہے ،ان تمام افراد پرانٹرنیشنل ایمرجنسی ا   کنامک پاورز ایکٹ کی  خلاف ورزی     کےالزامات  عائد کيےگئے ہيں ۔ استغاثہ الزام عائدکرتاہے کہ یہ  دونوں   الزامات 2018 اور 2019 ميں مدعا عليہان  نے ايرانی سپريم ليڈر کے ليے امريکی کرنسی کو امريکہ سے ايران منتقل کرنے کی کاروائی سرانجام دی ۔ دونوں  زيدی اور نقوی کو  18 اگست   ،     2020  کو    ہيوسٹن ميں گرفتارکياگيا۔

 

” ايران کی امريکی  ڈالرز   کو  جمع کرنے کی  قابليت  ميں رکاوٹ  پيدا کرکے اس  کے عظائم خاک ميں ملانا ، اسکی بين الاقوامی    دہشت  گردی کی سرپرستی  اورمشرق وسطی  کوغير  مستحکم کرنا ، بشمول  اسکی يمن ميں ‎ عسکری موجودگی کے ذريعے”  اسسٹنٹ اٹارنی جنرل     برائے نيشنل  سيکيورٹی جان سی ڈیمرز  نے کہا۔ زيدی ،نقوی اور چاولہ نے  مبينہ  طور پر  ايرانی سپریم لیڈر کے ليے امريکہ ميں زر اکھٹا   کيا،اور غير قانونی طور پر حکومت   ايران کو منتقل کيا۔  آج کے  پيش کردہ الزامات کے نتيجےميں،  انکے  غير قانونی منصوبے کو بے نقاب    اور  ختم  کر ديا گيا ہے۔ يو ايس  ڈيپارٹمنٹ آف جسٹس  اور اسکا نيشنل  سيکيورٹی ڈيويژن     کمر بستہ ہيں کہ ايسے افراد کو جوابدہ کيا جاۓ جو امريکی قوانين  کی خلاف ورزی  کرتے ہوئے امريکہ ميں  خفيہ تنظيموں   کے ذريعے   ايران  جيسی غير ملکی  دشمن   حکومتوں  کی پشت پناہی  اور  مالی امداد فراہم کرتے   ہيں۔

” يہ  مقدمہ کئی  سطحوں  پر اہميت رکھتا ہے” مائيکل  آر شرون   ، ایکٹنگ یوناٹڈ سٹیٹس  اٹارنی فار ڈسٹرکٹ  آف    کولمبيا  نے کہا۔  “شروع سے ہی  ،جيسا کہ  مجرمانہ   استغاثہ ميں الزام  عائد کيا گيا ہےکہ  مدعا عليہان  کے آئی  آر جی سی  کے ساتھ  بہت گہرے عملیاتی  تعلاقات   ہيں ،جس نے گزشتہ کئی سالوں  ميں بيشمار  دہشت  گردانہ کارواياں  پوری دنياميں کی ہيں۔ ا ن دہشت گردانہ کاروائيوں  کی   جڑ زر  ميں ہے- اور  مدعا عليہان نے  اس اہم  جز کو سہولت   بہم پہچا نے ميں بنيادی کردار ادا کيا “۔

 “آج کے الزامات   ہماری ذمہ داری کا اعادہ کرتے ہيں کہ غير ملکی دشمن  حکومتوں کے کارندوں  کو امريکہ کی حدود  ميں  باآسانی اورآزادانہ  طور پرکاروائی    کرنےسے روکا  جائے گا” جيمز اے ڈاسن ، ايکٹنگ اسسٹنٹ ڈائرکٹر انچارج  ،واشنگٹن فيلڈ آفس نے کہا۔” فارن ايجنٹس ريجسٹريشن ايکٹ کی خلاف ورزی  کے علاوہ، زيدی  اور اسکے شريکانہ سازش  کارنے مبينہ  طور پر  حکومت   ايران کی   ايما پر-      جوواضع طور پر دہشت  گردی کی سرپرت ہے-  ايرانی مقاصد کو تقويت پہنچانے کے ليےخفيہ طور پر     امريکی زر  حصول    کر کے  ،  جو کہ انٹرنیشنل ایمرجنسی ا   کنامک پاورز ایکٹ    کی خلاف ورزی ہے۔  انٹرنیشنل ایمرجنسی ا   کنامک پاورز ایکٹ            کا نفاذ اسی وجہ سے کيا گيا تھا :تاکہ ايسی غير ملکی دشمن  حکومتيں جو   کہ امريکی   مالی نظام سے استفادہ   کرتی ہيں ان کو اپنی عالمی غير مستحکمی  کاروائيوں سے روکا جائے۔

   

“آج کے مقدمے کی گرفتارياں   ايف بی   آئی ہيوسٹن  کی  کاونٹر انٹليجنس تفتيشی  ٹيم کی  انتھک  کاروائيوں کا براہ راست   نتيجہ ہيں،”      ايف بی  آئی ہيوسٹن فيلڈ آفس   کے سپيشل ايجنٹ ان چارج  پيرئيے کےٹرنر  نے کہا۔ “کئی فيلڈ آفسز اور ديگر انٹيلی جنس ايجنسيوں سے لگاتا ر  تعاون کے ساتھ ،ہمارے ايجنٹس  نےيہ   يقينی طور پر ثابت کر ديا ہے کہ جو دہشتگرد حکومتوں کو زر ارسال کرتے ہيں  ذمہ وار قرار ديےئ جائیں  گےاور وہ اپنی آزادی کھو بيٹھيں گے۔”

جيسےکہ   مجرمانہ حلف نامےمیں الزام  عائد کيا گيا ہے، زیدی نے جولائی 2015 يا اسکے  نزديک  ايران کے سپریم لیڈر کو اپنی خدمات یہ کہتے ہوئے پيش کيں کہ وہ “اسلامی جمہوريہ  کی خدمت  سماجی۔ سياسی يا کسی اور دائرے ميں پيش کرسکتا ہے۔” استغاثہ الزام    عائدکرتاہے کہ  زيدی نے جون 2018  يا اسکے  نزديک  شام کا سفر کيااور يہ کہ، جب وہ وہاں تھا ،  اس نے مسلح   ايرانی عسکری   يا  انٹيليجنس  ہوائی جہاز  پر    سرگرم جنگی ‏علاقے  پر سفر کر کے پہنچا۔ استغاثہ الزام    عائدکرتاہے کہ زیدی کو ايرانی ريولوشنری گارڈز کور [آئی آر جی سی]کے کمان کے تحت  جنگی علاقوں کے    اڈوں پر رسائی تھی جب وہ اس جنگی علاقے ميں تھا، جس ميں “سپاہ قدس” (آئی آر جی سی قدس فورس) کا اڈہ بھی شامل تھا۔ آئی  آرجی سی  کو امريکہ نے  4اپريل ،  2019  کو  دھشت گرد تنظيم قرار ديا  تھا۔ قاسم سليمانی ، جو  آئی  آرجی سی   ميں ميجر جرنل تھا، قدس فورس کا کمانڈر تھا  جب تک کہ وہ ايک امريکی ہوائی حملہ ميں3    جنوری    ،2020  ميں مارا گيا۔

 

استغاثہ کے مطابق،  دسمبر  2018  ميں ، زیدی اور ديگر ارکان جو    ايک تنظيم   بنام اسلامک پلس ، بشمول    چاولہ،  کوايرانی سپریم لیڈر کی  طرف  سے اجازت  وصول ہوئی کہ وہ خمس ، ايک مذہبی   ٹيکس،  ايرانی سپریم لیڈر کی طرف  سے وصول   کريں ، اور  اسکی نصف  رقم يمن ارسال کريں۔استغاثہ الزام  عائدکرتاہے کہ يمن ميں خمس کو  خرچ کرنے کی اجازت کی تصديق ، رسمی طور پر ايک  خط ميں  ايرانی سپریم لیڈر ، اور ايک اور آيت   اللہ  سے  28 فروی ،  2019  ،يا اسکے  نزديک  قرار پائی۔

استغاثہ  کے مطابق ،  جولائی 2019   يا اسکے  نزديک  ، اسلامک پلس نے اپنے مطلوبہ يمنی منصوبےکے چندہ جات وصول کرنے کےلئےوڈيو جاری کيا جس ميں امریکہ اور ديگر مغربی ممالک   سےيمن کو بزريعہ  ايران رقوم کا تبادلہ ظاہر کيا گيا  ۔ استغاثہ الزام    عائدکرتاہے کہ چاولہ  نے چندہ دہندگان   کے خدشات کو جواب ديا  کس طرح اس   منصوبے سے رقوم کو  يمن  ميں لاتے ہيں  يہ بیان کرتے ہوئے کہ اس  مسئلہ پر  ايميل ميں بات  چيت نہيں ہو سکتی ہے۔  استغاثہ  مزید الزام   عائدکرتاہے کہ چاولہ  کو خاصکر امريکی ڈالر مطلوب تھے، بيان کيا کہ  اسلامک پلس برقی تبادلہ وصول نہيں کرسکتا، اور اقرار کيا کہ  اسلامک پلس   اندراج شدہ صدقاتی ادارہ نہيں  ہے۔

استغاثہ الزام  عائدکرتاہے کہ  امريکہ  کے جون   2019 ميں ايرانی سپریم لیڈر پر پابندياں لگا دينے کے بعد  زيدی نے نقوی کو  کہا کہ يہ عمل “خمس پر براہ  راست  چوٹ ہے”۔ استغاثہ الزام  عائدکرتاہے کہ 2019     کی    گرميوں اور  خزاں  میں زيدی  اور نقوی  امريکی   کرنسی    اکھٹی   کر تے رہے  اور اسکو ايران بھيجتے رہے ، بعض دفع بذريعے  عراق  ، ايسے طريقوں سے کہ    اطلاع دہندگی کی ضروريات  کو نظرانداز  کيا  جا سکے ۔  اکتوبر2019  ميں  جب 25  مسافر زيدی  اور نقوی کی طرف سے  رقوم ايرا ن کے لئے  لے کر گئے ،  زيدی اور نقوی نے مسافروں کا ہوائی  اڈوں پرجانچ پڑتال    کے بارے ميں  بات چيت کی اور نقوی نے اميد کا اظہار کيا کہ کوئی  مسافر  واپسی پر حکام سے اس کا اقرار نہ   کرے۔

استغاثہ الزام  عائدکرتاہے کہ، اس کی امريکہ ميں حاليہ   موجودگی کے دوران ، جو جون 2020 سے  شروع ہوئی،  زيدی   نے ايسے  حرکات کا مظاہرہ کيا  جو بيرونی حکومت   يا   بيرونی  انٹليجنس کی تربيت کی   عکاسی کرتی  ہيں ،  جیسے کہ  حکومت ايران يا  آئی آر جی سی کے موافق  ہوں۔ استغاثہ کے مطابق، اس طرز عمل  ميں فون پر معاملات کی بات چيت ، يا   يہاں تک  کہ خفيہ  ايپليکيشن پر بات چيت  سے اجتناب کرنا     شامل  ہيں ،کيونکہ   زيدی  دعوی کرتا ہے کہ يہ خطرناک ہو سکتا ہے۔

فوجدای  استغاثہ   محض الزامات   ہوتے  ہيں ، اور ہر مدعاعلیہ  کو معصوم تصور کيا جاتا ہے جب تک   کہ اسے ايک  معقول شبہ سے باہر مجرم ثابت  کيا جاسکے۔    18يوناٹڈ سٹيٹس کوڈ  سيکشن 951 کی سب سے زيادہ   سزا دس  سال  ہےاور   انٹرنیشنل ایمرجنسی ا   کنامک پاورز ایکٹ کی  خلاف وزی   کے جرم   کی سب سے زيادہ   سزا  بيس سال ہے۔  سب سے زيادہ  سزا کانگرس نے تجويز کی ہے اوريہاں  صرف معلومات  کے ليے پيش  کی جا رہی ہے۔‏‏‏ 

اس معاملہ کی تفتيش   ايف بی آئی کے واشنگٹن  فيلڈ آفس اور ہيوسٹن  فيلڈ آفس نے کی ہے۔ ا س  مقدمہ کو يو ا   يس اٹارنی  کے  نيشنل سيکيورٹی  سيکشن    برائےڈسٹرکٹ  آف      کولمبيا نے  ،  بشمول کاؤنٹر انٹيليجنس  اور ايکسپورٹ کنٹرول سيکشن اور  ڈيپارٹمنٹ  آف  جسٹس  کے نيشنل  سيکيورٹی ڈيوژن  کے کاؤنٹر ٹيررازم سيکشن اس کی قانونی چارہ جوئی کر رہے ہيں۔

Source link

Author: Editor
The website is owned by STL.News, LLC. However, the website is hosted, designed, and maintained by WebTech Group, a web host, and design agency based in St. Louis, Missouri. USDOJ.Today focuses on aggregating content from the US Attorney's Offices around the country. STL.News uses this content to publish national news at https://STL.News